ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساحلی کرناٹک: سمندری لہروں میں اچانک اچھال۔الال اورآس پاس کے علاقے متاثر۔ گھروں میں گھس آیا سمندرکا پانی۔ایک لڑکا ہوگیا غرقاب

ساحلی کرناٹک: سمندری لہروں میں اچانک اچھال۔الال اورآس پاس کے علاقے متاثر۔ گھروں میں گھس آیا سمندرکا پانی۔ایک لڑکا ہوگیا غرقاب

Mon, 23 Apr 2018 12:22:40    S.O. News Service

منگلورو23؍اپریل (ایس او نیوز) پچھلے کچھ دنوں سے بدلتے ہوئے موسم اور بحیرۂ عرب میں ہوا کے گھٹتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے 22اپریل کی دوپہر سے ہی سمندر کی لہروں میں اچانک غیر معمولی اچھال پیدا ہوگیا جس سے ساحلی علاقوں میں سُنامی جیسی خوف و دہشت کا عالم دکھائی دیا۔ 

بہت زیادہ اونچی اور بے قابو موجوں کا اثر یوں توپوری ساحلی پٹی پردیکھنے کو ملا، لیکن منگلورو کے الال، اُچیلا، سومیشور جیسے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں سمندری کٹاؤ سے روکنے کے لئے بڑے بڑے پتھروں سے بنائی گئی دیواریں بپھرتی ہوئی موجوں کے سامنے بے اثر ہوگئیں اورسمندرکا پانی کافی اندر تک گھروں میں گھس آیا۔موصولہ رپورٹ کے مطابق 80سے زیادہ گھروں کے اندربڑی مقدارمیں سمندرکاپانی گھسنے سے عوام کو بڑی مشکلات اور بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔علاقے کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اتنی تیزی سے اور اتنی دور تک سمندرکی موجوں کو رہائشی علاقے میں گھستے ہوئے دیکھاہے۔

اچیلا میں سمندری اچھال کو دیکھتے ہوئے تین خاندانوں کو خطرے والے علاقے سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا۔سومیشور اوراچیلا میں چند گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔

ایک لڑکا سمندر میں بہہ گیا: شیرور میں ایک شادی کی تقریب میں شمولیت کے بعد واپس لوٹنے والے اپن انگڈی کے ایک خاندان کوکنداپور کے تراسی مرونتے ساحل پرتفریح کرنے کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ کیونکہ جب وہ لوگ موجوں سے کھیل رہے تھے تو اچانک تیز لہریں اٹھیں اوردیکھتے ہی دیکھتے اس خاندان کے تین لڑکوں کو بہا لے گئیں۔ ان میں سے عنیص ابن محمد رشید(۱۴سال) اورالیاس ابن ابراہیم(۱۴سال) کو بچالیا گیا مگرمحمد جنیدابن محمدنامی ایک بارہ سالہ لڑکا سمندر کی لہروں میں ڈوب کر لاپتہ ہوگیا۔خبر ہے کہ گنگولی کی کوسٹل سیکیوریٹی فورس اور گنگولی پولیس کے افسران لاپتہ جنید کی تلاشی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔چونکہ عنیص اور الیاس بہت زیادہ زخمی ہوگئے تھے اس لئے انہیں علاج کے لئے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

راحت رسانی کے انتظامات: سمندری لہروں میں غیر معمولی اچھال کے بعد رہائشی علاقوں اور گھروں میں پانی گھسنے کی خبر ملتے ہی پولیس، ریوینیو افسران اور فائر بریگیڈ کے عملے نے متاثرہ مقامات پر پہنچ کر عوام کو راحت دلانے اور حفاظتی انتظامات کیے۔ وزیر غذا و سول سپلائی یو ٹی قادر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق اور اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کی پروا کیے بغیر وہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے اورسرکاری افسران و عوامی تنظیموں کے ذریعے کیے جانے والے راحت رسانی کے اقدامات کا جائزہ لیااور ان کی نگرانی ورہنمائی کی۔

سمندر کے بدلتے خوفناک رخ کو دیکھتے ہوئے ملپے کے سینٹ میری جزیرے پر سیر وتفریح کو عارضی طور پرمعطل کردیا گیا ہے اور اس طرف جانے والی تمام بوٹس کو روک لیا گیا ہے۔


Share: